نئی دہلی، 4/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)نے صارفین کے لیے اکاؤنٹس میں کم از کم بیلنس برقرار رکھنے کو لازمی بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے والوں پریکم اپریل سے پنالٹی لگائی جائے گی۔میٹروپولیٹن علاقوں میں اکاؤنٹس کے لیے کم از کم 5000روپے، شہری علاقوں میں 3000، نیم شہری علاقوں میں 2000اور دیہی علاقوں میں 1000روپے کم از کم بیلنس رکھنا ضروری ہو گا۔اکاؤنٹس میں کم از کم بیلنس نہیں رہنے پر یکم اپریل سے جرمانہ لگایا جائے گا، جرمانے کی یہ رقم طے کئے گئے کم از کم بیلنس اور اکاؤنٹس میں کم رہ گئی رقم کے فرق کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ایس بی آئی نے اس بابت ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں اگر اکاؤنٹس میں موجود رقم کم از کم بیلنس کے مقابلے میں 75فیصد سے زیادہ کم ہوگی تو 100روپے جرمانہ اور اس پر سروس ٹیکس جوڑ کر وصول کیا جائے گا۔اسی طرح اگر اکاؤنٹس میں موجود رقم کم از کم بیلنس کے مقابلے میں 50سے 75فیصد کے درمیان کم رہتی ہے، تو بینک اس پر 75روپے جرمانہ وصولے گا اور اس میں سروس ٹیکس علیحدہ سے جوڑے گا۔50فیصد سے کم بیلنس ہونے پر 50روپے کا جرمانہ اور سروس ٹیکس بھرنا ہو گا۔وہیں دیہی علاقوں کے صارفین پر 20روپے سے 50روپے کے درمیان پنالٹی لگائی جائے گی اور اس میں بھی سروس ٹیکس علیحدہ سے جوڑے گا۔عوامی شعبے کے بینک ایس بی آئی نے کہا ہے کہ یکم اپریل سے یہ اپنی شاخوں میں تین سے زیادہ کیش ٹرانزیکشن کرنے پر صارفین سے 50روپے کی فیس وصول کرے گا۔یہ اصول اب بھی لاگو ہے، تاہم نقد لین دین کی اوپری حد ابھی طے نہیں کی گئی ہے۔ایس بی آئی کے ایک افسر نے کہا کہ شاخوں میں کیش ٹرانزیکشن پر فیس پہلے سے موجود ہے۔اسے یکم اپریل سے اگلے مالی سال کے لیے بھی لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، صارفین کو برانچ میں کم از کم آنے کے مقصد سے ایسا کیا جا رہا ہے، لیکن جو فیس ہے وہ بھی برائے نام ہی ہیں، چونکہ اے ٹی ایم سے ایک مہینہ میں ہم 10بار مفت نکاسی کی سہولت دے رہے ہیں، ایسی صورت میں صارفین کو برانچ میں آنے کی زیادہ ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔